16 اپریل 2011 - 19:30

امریکہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ لئون پانتا نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے بدستور جاری رہيں گے / ڈرون حملے تیز ہوں ؟ پاکستان کا مطالبہ ؟

اطلاعات ہيں کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا اور سی آئی اے کے سربراہ کے مابین ہونے والے مذاکرات جو امریکہ میں انجام پائے تھے ناکام ہوگئے۔ سی آئی اے کے سربراہ نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے ڈرون حملے افغانستان میں متعین امریکی فوجیوں کی جان کی سلامتی کے لئے ہيں۔ یہ ایسی حالت ميں ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع نے اپنے دورہ امریکہ میں امریکی حکام سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند اور پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکاروں کی تعداد کم کردیں مگر امریکی اخبارکے مطابق سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔یہی نہيں جنگ آن لائن کی مطابق سی آئی اے نے فاٹا کے علاقے میں اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کرلیا ہے اوراب اسے ڈرون حملوں کے لیے آئی ایس آئی کی مددکی ضرورت نہیں رہی۔امریکی اخبارنے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دوسال میں سی آئی اے نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا ہے اوراس کے اپنے خفیہ ذرائع ڈرون حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں اس لیے اب آئی ایس آئی پرانحصار اوراس کی مدد کرضرورت نہیں رہی ہے۔امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی آئی اے ڈرون حملوں پر پاکستان سے مشاورت کرنا چاہتی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ امریکہ نے اس پراتفاق کرلیا ہے کہ پاکستان کو ہر ڈرون حملے کی وضاحت کرے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے ڈرون حملے دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی ایک بنیادی وجہ بنتے جارہے ہيں۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے ایک بار پھر پاکستان پر امریکہ کے ڈرون حملوں پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہائٹ ہاؤس کو قبائلی علاقوں پر اپنے ڈرون حملے بند کرنے ہی ہوں گے کیونکہ اسلام آباد کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہيں کی جاسکتی۔ ان تمام حالات کے باوجود امریکہ کا یہ دعوی کہ اب اسے آئی ایس آئی کے تعاون کی ضرورت نہيں ہے کتنا پختہ ہے اور امریکہ کے اگلے اقدامات کیا ہوں گے یہ سب آنےوالا وقت ہی بتائے گا ۔ڈرون حملے تیز ہوں ؟ پاکستان کا مطالبہ ؟  دریں اثناء امریکہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعوی کیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں پرڈرون حملے تیز کردے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پاکستانی حکومت اس فیصلے کو عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتی تھی۔ یاد رہے امریکی اخبار کا یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے کہ پاکستانی عوام اور حکومت نے امریکہ کے ڈرون حملوں پر بارہا برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے گو کہ اندر کی باتیں میڈیا کو کم ہی بتائی جاتی ہیں اور حقیقت کیا ہے اس کا صرف متعلقہ امریکی اور پاکستانی حکام کو علم ہوسکتا ہے۔

بشکریہ از ریڈیو تہران

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110